بنگلورو،2؍مئی(ایس او نیوز)ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ پر لائبریرینوں کو ترقی دینے کیلئے رشوت لینے کے الزام کو وزیر اعلیٰ سدرامیا نے سیاسی بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ آج شہر کے قدوائی کینسر اسپتال میں مجوزہ دھرم شالہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے رشوت ستانی کے الزامات میں گھرے تنویر سیٹھ کا بھر پور دفاع کیا اور کہاکہ ان پر جو بھی الزامات ہیں ان کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ ان الزامات میں سچائی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک معاملہ کی جانچ نہیں ہوجاتی ان الزامات کو سچ تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے وزیر کے خلاف الزامات لگائے ہیں ان پر ہی یہ ذمہ داری ہے کہ ان الزامات کو ثابت کریں ، بغیر ثبوت کے الزام لگانا درست نہیں ۔انہوں نے کہاکہ لائبریرینوں کی طرف سے شہر میں جو ہڑتال کی جارہی ہے اس کے بارے میں انہوں نے تفصیلات طلب کی ہیں، بہت جلد ہی اس معاملے کا جائزہ لے کر وہ خود اسے سلجھانے کی کوشش کریں گے۔بنگلور میں اے آئی سی سی سیشن کا انعقاد کرنے کی تیاریوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سدرامیا نے کہاکہ ایسی کوئی تجویز اب تک ان کے علم میں نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کی تین مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کے سلسلے میں ایک تجویز گورنر کو روانہ کی جاچکی ہے۔ جلد ہی گورنر کی طرف سے اس سلسلے میں جواب کی توقع ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا کہ ان کے دفتر میں ہی آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس جنتادل (ایس) مفاہمت کی بات چیت کافی زوروں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایسی کوئی تجویز کانگریس یا حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔